Welcome to NEWSFLASH, Your News link to Pakistan and beyond . . .
 

اردو رسائل و جرائد

Newsflash
 

Time Magazine Subscription in Pakistan

 

Pakistan's premier  website that covers current affairs and news.

Readers Digest

 

Hina Digest

ایک ایسا ملک جہاں وقت کی پابندی کو غیرمہذب سمجھا جاتا ہے

 

 

Reader's Digest

 

 

 

ییٹی کے قدموں کے نشان ملنے کے دعوؤں پر انڈین فوج کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے

انڈین فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں 'ییٹی' کے قدموں کے نشان ملے ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین حیرت کے اظہار کے ساتھ اس دعوے کا مذاق بھی اڑا رہے ہیں۔

 

ییٹی کون اور کیا ہے؟

ییٹی ایک دیو قامت بن مانس کی نسل کی مخلوق ہے جس کا ذکر جنوب مشرقی ایشیا کی لوک داستانوں میں ملتا ہے۔

ییٹی جیسی مخلوق کی موجودگی کے کبھی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے ہیں لیکن دیومالائی کہانیوں میں اس کا ذکر ملتا ہے اور لوگ اس میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔

انڈین فوج نے اس مخلوق کے قدموں کے نشانوں کی تصاویر جاری کر کے اس کے حقیقی ہونے کے تصوارت کو توقیت دی ہے۔

 

A Special report on India's attempts to wish Kashmir issue away. Rs 50 in Pakistan

سرکاری سکولوں کا فنڈ دینی مدرسے دارالعلوم حقانیہ کو کیوں دیا گیا؟

انڈیا کے مقتدر ترین جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق برف پر یہ نشانات فوج کو نو اپریل کو ملے تھے لیکن فوج نے ان کو عام کرنے کا فیصلہ یہ سوچ کر کیا کہ ییٹی کے بارے میں جو کہانیاں پہلے سے موجود ہیں یہ نشان ان سے ملتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر حیرت کا اظہار کرنے والوں سے فوج نے کہا کہ ییٹی کے بارے میں شواہد کی تصاویر لی گئیں اور ماہرین کی رائے حاصل کرنے کے لیے یہ ان کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

فوج نے مزید کہا کہ انھوں نے یہ مناسب سمجھا کہ ان تصاویر کو عام کردیں تاکہ سائنسدان اور عوام میں اس بارے میں دلچسپی پیدا ہو۔

ییٹی کو ایک بدنما برفانی انسان بھی تصور کیا جاتا ہے اور اس خیالی مخلوق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہمالیہ کی پہاڑیوں پر کافی اونچائی پر پائی جاتی ہے۔ انڈیا، نیپال اور بھوٹان میں ییٹی کے بارے میں یہ کہانیاں عام ہیں کہ لوگوں نے اس کے قدموں کے نشانات دیکھے ہیں۔

 

 

اسرئیل کا خلائی طیارہ   چاند کی سطح پر گر گیا

 

 

ییٹی پر سائنسی تحقیق

برطانوی سائنسدانوں نے سنہ 2013 میں ایک تحقیق کے بعد کہا تھا کہ یہ خیالی ہمالیائی مخلوق بھورے ریچھ کی کوئی نسل ہوسکتی ہے۔

اس پراسرار مخلوق کی حقیقت معلوم کرنے کی بہت کوششیں ہو چکی ہیں۔ ایک صدی قبل نیپال سے انگلی کی ایک ہڈی ملی تھی جس کا ڈی این اے ٹیسٹ لندن میں کرایا گیا جس سے پتہ چلا کہ یہ کسی انسان کی تھی۔

سنہ 2013 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے جنیات کے ماہر برائن سکائز نے کچھ بالوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جس سے پتا چلا کہ یہ قدیم قطبی ریچھ کے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مخلوق قطبی ریچھ اور بھورے ریچھ کے ملاپ سے پیدا ہونے والا ریچھ ہو۔

ٹوئٹر پر ردعمل

ٹوئٹر استعمال کرنے والوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج اس خیالی مخلوق کے بارے میں کس طرح یہ دعویٰ کر سکتی ہے۔

ہیرٹ کہتے ہیں کہ 'یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ فوج اس قسم کی دیومالائی کہانیوں کو حقیقت بنا کر پیش کر رہی ہے۔ آپ سے بہتر کی امید تھی۔'

اPost dated  May 3, 2019

 

Share your views at myopinion@newsflash.com.pk

 

پشاور تا کراچی ریلوے ٹریک بچھانے کیلئے پاک چین معاہدہ

ایرانی تیل پر مکمل پابندی: امریکی فیصلے کے اثرات کہاں تک جائیں گے؟

 

 

Want to get news alerts from newsflash.com.pk? Send us mail at

editor.newsflash@gmail.com


Copyright 2006 the Newsflash All rights reserved

This site is best viewed at 1024 x 768