Welcome to NEWSFLASH, Your News link to Pakistan and beyond . . .
 

اردو رسائل و جرائد

Newsflash
 

Time Magazine Subscription in Pakistan

 

Pakistan's premier  website that covers current affairs and news.

Readers Digest

 

ہماری بیویوں کو رہا کرو۔پاکستانی شوہروں کا مطالبہ

عمران خان کے پیار کی بیٹی پر برطانیہ میں نئی بحث

آنکھ مارنے  سے توہین مذہب نہیں ہوئ

ایک ایسا ملک جہاں وقت کی پابندی کو غیرمہذب سمجھا جاتا ہے

 

 

Reader's Digest

 

 

 

 

100 وومن سیزن: عمر کوٹ کی کرشنا قید سے پارلیمان تک کا سفر

بی بی سی رپورٹ

 

 

تھر سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کرشنا کماری کو ان کا نام بی بی سی کی 100 وومن لسٹ میں شامل کیے جانے کے بارے ان کی ایک دوست نے بتایا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرشنا نے بتایا کہ بااثر متاثرکن خواتین کی فہرست میں شامل ہونا ان کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔

مجھے اس خبر کے بارے میں میرے دوستوں نے بتایا اور لندن میں موجود کچھ خواتین خیر خواہوں نے بذریعہ فون اور ای میل مبارک باد دی۔

 

A Special report on India's attempts to wish Kashmir issue away. Rs 50 in Pakistan

Economist Magazine Subscription in Pakistan

کرشنا کا کہنا ہے کہ اب تک ان کا اپنے والدین سے رابطہ نہیں ہو پارہا ہے۔ ہمارے گاؤں میں فون کا نیٹ ورک بہت خراب ہے جس کی وجہ سے میں اپنے والدین سے بات نہیں کر پارہی ہوں۔ ان کو ان سب باتوں کی زیادہ سمجھ نہیں ہے، لیکن ان کو بتانا تو ہے۔

کرشنا کا تعلق نگرپارکر سے 20 کلومیٹر دور دھنا گام گاؤں سے ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں وہ پہلی تھری خاتون ہیں جن کو سینیٹ انتخابات میں کامیاب ہو کر ایوان تک پہنچنے کا موقع ملا۔

انھوں نے بی بی سی کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ نگرپارکر میں زندگی بہت مشکل سے گزرتی ہے کیونکہ وہاں سالہا سال خشک سالی رہتی ہے۔ وہاں کی زندگی آپ کو بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔

 

 

نیویارک ٹائمز کا مضمون، پینس اور پومپیو کی صفائیاں

 

کرشنا کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے جبکہ ان کے بچپن کا کچھ عرصہ انھوں نے عمرکوٹ کی تحصیل کُنری میں ایک زمیندار کے ہاں مزدوری اور جبری مشّقت کرکے گزارا۔

میرے والد کو کُنری (عمرکوٹ) کے زمیندار نے قید کرلیا اور ہم تین سال تک ان کی قید میں رہےـ میں اس وقت تیسری جماعت میں تھی ـ ہم کسی رشتہ دار کے پاس نہیں جاسکتے تھے نہ کسی سے بات کرسکتے تھے ـ بس ان کے کہنے پر کام کرتے تھے اور ان کے کہنے پر واپس قید میں چلے جاتے تھےـ'

کرشنا کوہلی کیشو بائی کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کی شادی سولہ سال کی عمر میں کردی گئی تھی لیکن وہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر ان کی پڑھائی میں مددگار ثابت ہوئےـ

انھوں نے سندھ یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا ہے اور پچھلے بیس سال سے تھر میں لڑکیوں کی تعلیم اور صحت کے لیے جدوجہد کررہی ہیں ـ انھوں نے بتایا کے اس وقت نگرپارکر کے ایک سکول میں صرف ایک ہی ٹیچر ہے جو بچیوں کو تعلیم دینے کے لیے رکھی گئی ہیں۔

'ایوان میں آنے سے پہلے کرشنا کماری نے کہا تھا کہ تھر میں حاملہ خواتین کی زندگی بہت مشکل ہے اور میں ایوان میں آنے کے بعد ان کے لیے ضرور کام کرنا چاہوں گی۔ ساتھ ہی انھوں نے تہیہ کیا تھا کہ وہ جبری مشقّت کرنے والے مزدوروں کے لیے قانوں لانا چاہیں گی جس کے نتیجے میں ان کو کام کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔

ایوان میں چند ماہ گزارنے کے بعد کرشنا کماری کہتی ہیں کہیہاں بات کرنا مشکل نہیں ہے۔ سب کو موقع ملتا ہے اپنی بات کرنے کا۔ مجھے یقین ہے کہ موقع آنے پر میں بھی اپنی بات سامنے رکھ سکوں گی۔

 

Post dated  November 21, 2018

 

Share your views at myopinion@newsflash.com.pk

 

با کما ل لو گو ں کی لا جو ا ب'' یو نیفا ر م''

جلد کی حفاظت

 

 

Want to get news alerts from newsflash.com.pk? Send us mail at

editor.newsflash@gmail.com


Copyright 2006 the Newsflash All rights reserved

This site is best viewed at 1024 x 768