Welcome to NEWSFLASH, Your News link to Pakistan and beyond . . .
 

اردو رسائل و جرائد

Newsflash
 

Readers Digest Subscription

 

Pakistan's premier  website that covers current affairs and news.

Readers Digest

Hina Digest

ماہنامہ شیف کے سالانہ خریدار بنیں اور حکیم آغا خان کے مفید مشوروں سے اپنی صحت کے لئے راہنمائی  حاصل کریں

 

Reader's Digest

 

 

 

اقرا خالد: کینیڈین پارلیمان کی رکن بننے والی پاکستانی خاتون کی کہانی

پاکستان میں پیدا ہونے والی اقرا خالد نے اکتوبر میں ہونے والے کینیڈا کے عام انتخابات میں دوسری مرتبہ اکثریت حاصل کر کے پارلیمنٹ میں اپنی نشست برقرار رکھی ہے۔

 

کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی سے تعلق رکھنے والی اقرا خالد نے پہلی مرتبہ سنہ 2015 میں کینیڈا کے دارالعوام کا انتخاب جیت کر سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔

انھیں انصاف اور انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کا ممبر نامزد کیا گیا جس کے دوران انھوں نے جنوبی ایشیا میں انسانی سمگلنگ، میانمار میں روہنگیا بحران اور چین، عراق اور ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کر کے عالمی توجہ حاصل کی تھی۔

 

A Special report on India's attempts to wish Kashmir issue away. Rs 50 in Pakistan

تحفظ برائے موبئل صارفین

اس کے علاوہ انھوں نے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے فنڈز فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

I   

 

نیویارک ٹائمز کا مضمون، پینس اور پومپیو کی صفائیاں

 

سب سے بڑھ کر یہ کہ انھوں نے منظم نسل پرستی اور مذہبی تفریق کے خلاف ایک تحریک پیش کی جس کے پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد حکومت اب نسل پرستی اور مذہبی تفریق کے خلاف اقدامات اٹھانے کی پابند ہے۔

مگر اس دوران ان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور ان کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔

 

اقرا خالد نے یہ مقام اپنی محنت اور جدوجہد کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے جس میں انھیں ان کے خاندان اور والدین کی بھرپور مدد حاصل تھی۔ بی بی سی نے اقرا خالد سے ان کی انتھک جدوجہد پر بات کی ہے۔ ان کی کہانی ان ہی کی زبانی پڑھیں۔

پہلے برطانیہ اور پھر کینیڈا

میں نے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور کے ایک متوسط خاندان میں آنکھ کھولی۔ میرے والد ایک مقامی یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔

جب انھیں اپنی پی ایچ ڈی کے لیے برطانیہ جانا پڑا تو وہ ہم سب بچوں کو بھی ساتھ برطانیہ لے گئے۔ برطانیہ میں تین سال تک رہنے کے بعد جب میں 11 سال کی تھی تو واپس پاکستان آئی۔

ایک سال پاکستان میں گزارنے پر ہمارے والدین نے محسوس کیا کہ اب ہمارے بچے پاکستان کے نظام تعلیم سے زیادہ ہم آہنگ نہیں ہو رہے، چنانچہ ہمارے والد نے کینیڈا کے لیے اپلائی کیا۔

سنہ 1998 میں، میں جب 12 سال کی تھی تو کینیڈا چلی گئی۔ مجھے بچپن ہی سے کینیڈا میں ایڈجسٹ ہونے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ سکول جاتی تو میرا بہت زیادہ وقت لائبریری میں گزرتا۔ جب سکول میں تھی تو سکول کا اخبار بنایا کرتی تھی۔

بچپن میں صحافی بننے کا شوق تھا مگر بعد میں امریکہ سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

جب ہمارے خاندان نے ایک کھانے کا کاروبار خریدنے کا فیصلہ کیا تو اس کے انتظامی امور سے لے کر کھانا پکانے تک اسے چلانے اور پھر مستحکم کرنے میں میرے مشورے اور کام کو بہت اہمیت دی گئی۔

یہ کاروبار اب بہت مستحکم ہے اور میرے والد ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ اس میں اقرا کا بہت زیادہ کردار ہے۔

امریکہ سے وکالت کی ڈگری کے بعد مجھے کینیڈا کی ایک معروف قانونی فرم میں ملازمت مل گئی جہاں پر میری صلاحیتوں کو خوب سراہا گیا۔

میرا روز مرہ کا معمول تھا کہ میں دن کے وقت اپنی فرم میں کام کرتی تھی اور شام کے وقت ریسٹورنٹ چلی جاتی تھی جہاں پر والدین کا ہاتھ بٹاتی۔ اسی طرح فلاحی کاموں میں بھی بھرپور حصہ لیتی تھی۔

یہ سنہ 2014 کی بات ہے جب کینیڈا کے 2015 انتخابات کی تیاریاں جاری تھیں اور سیاسی پارٹیوں میں نامزدگی کا مرحلہ شروع ہونے والا تھا۔

ایک شام میں معمول کی طرح ریسٹورنٹ گئی تو میرے والد نے مجھے بلایا اور انتہائی سنجیدگی سے کہا کہ انتخابات ہونے والے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ تم میں بہت صلاحیت ہے اور تم سوشل ورک میں بھی حصہ لیتی ہوں، چلو نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

میں نے دیکھا کہ ہر کمیونٹی کے سو، دو سو لوگ کیمپ میں بیٹھے انتخابات کے دن کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ لوگ تین، تین، چار چار کی ٹولیوں میں بیٹھے تھے اور ہر کوئی اپنے کام میں اتنا مگن تھا کہ کسی کو میری موجودگی کا احساس ہی نہیں ہوا۔

کیسا منظر تھا میں الفاظ میں بتا نہیں سکتی۔ یہ ہی کینیڈا کے معاشرے کی خصوصیت ہے جس میں مذہب، رنگ، قوم و نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر ترقی ملتی ہے۔

انتخابات کا دن اعصاب شکن تھا۔ میں پریشان تھی مگر میرے والد بہت مطمئن تھے۔ دن بہت ہی مصروف گزرا اور شام کو جب انتخابی کیمپ میں گئی تو بہت زیادہ لوگ اکھٹے تھے۔ ہمارے کارکنان پر امید تھے۔

اسی کیمپ میں میرے والد تمام معاملات سنبھال رہے تھے جب کہ میری والدہ ایک کونے میں موجود تھیں۔ میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گئی اور نتائج کا انتظار کرنے لگی۔

Post dated  November 26, 2019

 

Share your views at myopinion@newsflash.com.pk

 

اکھنڈ بھارت کا رومانس ابھی باقی ہے

 

جلد کی حفاظت

 

 

Want to get news alerts from newsflash.com.pk? Send us mail at

editor.newsflash@gmail.com


Copyright 2006 the Newsflash All rights reserved

This site is best viewed at 1024 x 768