Welcome to NEWSFLASH, Your News link to Pakistan and beyond . . .
 

اردو رسائل و جرائد

Newsflash
 

Time Magazine Subscription in Pakistan

 

Pakistan's premier  website that covers current affairs and news.

Readers Digest

 

عمران خان کے پیار کی بیٹی پر برطانیہ میں نئی بحث

آنکھ مارنے  سے توہین مذہب نہیں ہوئ

ایک ایسا ملک جہاں وقت کی پابندی کو غیرمہذب سمجھا جاتا ہے

 

 

Reader's Digest

 

 

 

کوئی مسلم ملک اویغور مسلمانوں کے لیے کیوں نہیں بولتا؟

'چین ایک ایسا ملک بنتا جا رہا جہاں ہمہ وقت آپ پر نظر رکھی جاتی ہے۔ جہاں آپ ذرا سی غلطی پر سلاخوں کے پیچھے جا سکتے ہیں۔ جہاں سوچ پر بھی پہرہ ہے۔ یہ ایسی جگہ ہے جہاں غیر ملکی صحافیوں کو پسند نہیں کیا جاتا ہے۔'

 

 

یہ چین کے بارے میں بی بی سی کے ایک صحافی کا تجزیہ ہے جس کا احساس انھیں رواں سال چین کے بڑے علاقے سنکیانگ کے دورے کے دوران ہوا۔

'زندہ لوگ مردہ بن کر نکلے'

مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ لوگوں کو بڑے پیمانے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گيا ہے۔ لاکھوں لوگ لاپتہ ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگوں کے پاس کوئی حق نہیں ہے۔ آپ کو کوئی عدالت کوئی وکیل نہیں ملے گا۔ مریضوں کے لیے کوئی دوا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندہ افراد کیمپ سے مردوں کی حالت میں نکل رہے ہیں۔

بی بی سی کے ہارڈ ٹاک پروگرام میں انسانی حقوق کے اویغور پروجیکٹ کے نوری تاکیل نے یہ باتیں کہی ہیں۔

A Special report on India's attempts to wish Kashmir issue away. Rs 50 in Pakistan

Economist Magazine Subscription in Pakistan

'اس سے بہتر گولی مارو'

'میری ماں اور بیوی کو کیمپ میں لے جایا گیا۔ انھیں لکڑی کی سخت کرسی پر بٹھایا جاتا ہے۔ میری بدنصیب ماں کو روزانہ اس عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میری بیوی کا گناہ بس اتنا ہے کہ وہ اویغور مسلمان ہے۔ اس کی وجہ سے، انھیں ایک علیحدہ کیمپ میں رکھا گیا ہے جہاں انھیں زمین پر سونا پڑتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ آج وہ زندہ ہے یا نہیں۔ میں برداشت نہیں کر سکتا کہ میری ماں اور بیوی کو چینی حکومت تڑپا تڑپا کر مارے۔ اس سے تو بہتر ہے کہ انھیں گولی مار دو۔ گولی کے لیے پیسے میں دوں گا۔'

یہ ان ہزاروں اویغور مسلمانوں میں سے ایک مسلمان عبدالرحمن کی آپ بیتی ہے جو کسی طرح سے جان بچا کر ترکی جانے میں کامیاب ہوئے۔

 

 

نیویارک ٹائمز کا مضمون، پینس اور پومپیو کی صفائیاں

 

'میں نے ایک جگر اور دو گردے نکالے'

بی بی بی کے ساتھ بات چیت میں برطانیہ میں مقیم ایک اویغور انور توہتی نے چین کے حالات کے بارے میں کہا: 'یہ سنہ 1995 کی بات ہے۔ مجھے بلا کر ایک ٹیم بنانے کے لیے کہا گيا۔ پھر وہ ہمیں وہاں لے گئے جہاں لوگوں کو سزا کے طور پر گولی ماری گئی تھی۔ وہاں میں نے ایک جگر اور دو گردے نکالے۔ لیکن اس قیدی کی ابھی موت واقع نہیں ہوئی تھی کیونکہ قیدی کے دانستہ طور پر سینے کے اس حصے پر گولی ماری گئی تھی کہ اس کی جان فوری طور پر نہ نکلے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'اس وقت اس کام میں مجھے کچھ غلط کرنے کا احساس نہیں ہوا کیونکہ میں اس معاشرے میں پیدا ہوا تھا جہاں لوگوں کے ذہن میں بہت سی چیزیں ڈال دی گئی تھیں اور میرا بھی یہ خیال تھا کہ ملک کے دشمن کو ختم کرنا ہمارا فرض ہے۔'

چین پر یہ الزام ہے کہ اس نے اقلیتوں اور مسلمانوں کی بڑی تعداد کو قید اور حراستی کیمپوں میں رکھا ہوا ہے۔

 

رواں سال اگست میں اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے بتایا کہ وہاں تقریباً دس لاکھ لوگ حراست میں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے جبکہ چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

 

Post dated  October 7, 2018

 

Share your views at myopinion@newsflash.com.pk

 

با کما ل لو گو ں کی لا جو ا ب'' یو نیفا ر م''

جلد کی حفاظت

 

 

Want to get news alerts from newsflash.com.pk? Send us mail at

editor.newsflash@gmail.com


Copyright 2006 the Newsflash All rights reserved

This site is best viewed at 1024 x 768